اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے با استقامت عوام آج بدھ 2 مارچ کو اپنے انقلاب کا سترہوان دن شروع کرچکے ہیں۔آج کے واقعات:00:05 بجے صبح ـ ـ میدان اللؤلؤة میں دھرنا جاری بحرینی عوام میدان اللؤلؤة میں اپنا پر امن دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ چوک اب بحرینی عوام کے انقلاب کی علامت بن چکا ہے۔ اس میدان میں ایک بچی کی پیدائش ہوئی اور بچی کا نام بھی "لؤلؤة" رکھا گیا. میدان میں ہی ایک شادی ہوئی یوں یہ میدان عشروں سے ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والے عوام کے جذبات اور مطالبات کے اظہار اور ایک دوسرے کے قریب آنے کے لئے مناسب مقام کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "ہم یہیں ہیں جب تک کہ آل خلیفہ کا نظام رخصت نہیں ہوجاتا۔ 00:20 بجے صبح ـ ـ میدان میں ہی ٹیلی ویژن پروگرام!میدان اللؤلؤة میں عوام کا اجتماع کل مغرب سی تھوڑی دیر قبل سے پچھلی پہر تک جاری رہتا ہے لیکن صبح کے وقت لوگوں کی تعداد کم ہوکر رہ جاتی ہے اور میدان میں قائم خیمہ بستی کے خیموں کے مالکین کے سوا باقی لوگوں کی اکثریت گھروں کو روانہ ہوجاتی ہے البتہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ میدان سے کہیں نہیں جاتے اور مسلسل حاضر رہتے ہیں۔ وہ میدان میں ڈرامہ پروگرام بھی کرتے ہیں؛ اور اس کام کے لئے انھوں نے میدان میں ہی ایک اسٹیج لگایا ہوا ہے۔ کل صبح کے وقت آل خلیفہ خاندان سے وابستہ نام نہاد قومی ٹیلی ویژن کی ٹیم اچانک میدان میں آپہنچی جبکہ میدان میں دھرنا دینے والوں کی تعداد کم ہوچکی تھی۔ دھرنا دینے والے ٹیلی ویژن کے اس معاندانہ اقدام کے باوجود ٹیم کے اراکین سے حسن سلوک سے پیش آئے اور کئی لوگوں نے ان کو انٹرویو بھی دیا لیکن انھوں نے ٹی وی والوں سے پوچھا: آپ لوگ شام اور رات کے وقت یہان کیوں نہیں آتے جب لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے؟آپ لوگ اپنے عوام کے احتجاج کی لمحہ بلمحہ رپورٹ کیوں نشر نہیں کرتے؟اگر بحرین کا سرکاری ٹیلی ویژن واقعی قومی ٹیلی ویژن ہے تو وہ وہ میدان میں رونما ہونے والے تمام واقعات نشر کیوں نہیں کرتا؟ اور ...01:00 بجے صبح ـ ـ پارلیمان قانونی حیثیت کھوگئی ہےبحرینی پارلیمان کی مستعفی رکن "داکتر جاسم حسین" نے کہا: بعض لوگ گدلے پانی سے مچھلی پکڑنا چاہتے ہیں اور عوام کے پر امن مظاہرون کو نسلی اور مذہبی اعتراضات کے عنوان سی بدنام کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا: انھوں نے پارلیمان کے دو ایوانوں کے سامنے عوامی دھرنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دے کر کہا: بحرینی پارلیمان کے اٹھارہ اراکین استعفا دے چکے ہیں چنانچہ پارلیمان اپنی قانونی حیثیت کھوچکی ہے اور وہ مزید معتبر نہیں رہی ہے۔

01:30 بجے ـ ـ آج "زنجیر توڑ" ریلی وزارت داخلہ کی جانببحرینی عوام تقریباً ہر روز بڑی بڑی ریلیاں نکالتے ہیں اور بڑے بڑے مظاہرے کر یےہیں اور انھوں نے آج کے لئے بھی بڑی ریلیوں کا اہتمام کیا ہے۔ آج کی ریلیوں اور مظاہروں کو "زنجیر توڑ ریلی" کا نام دیا ہے۔ آج کا مظاہرہ بحرین کے وقت کے مطابق سہ پہر 15:00 (تین بجے) میدان اللؤلؤة سے نکالی جائے گی اور وزارت داخلہ تک جاری رہے گی۔ بحرینی عوام وزارت داخلہ سے باقیماندہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور گذشتہ جمعرات کو لاپتہ ہونے والے سیاسی راہنما محمد بو فلاسہ کی بازیابی کا مطالبہ کریں گے۔ محمد بوفلاسہ جو حال ہی میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کے امیدوار بھی تھے، گذشتہ جمعرات کو میدان اللؤلؤة میں خطاب کرنے کے بعد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے اپنے خطاب میں ملک میں عدل و انصاف کی حکمرانی اور سیاسی اور سماجی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ ابوفلاسہ کے بارے میں بات کرنا بہت مشکل ہے کیوں کہ ان کے بارے میں دستیاب معلومات بہت کم ہیں۔ انھوں نے اسی دن رات دس بجے اپنی بیگم کو فون کیا اور انہیں ایک ٹیلی فون نمبر دیا اور کہا کہ اگر وہ نہ لوٹیں تو اس نمبر پر فون کریں۔ ان کے بھائی بوفلاسہ راشد نے قطر سے ٹیلی فون پر بتایا ہے کہ ابھی تک وہ اور ان کے خاندان والے نہیں جانتے کہ ان کے بھائی محمد کہاں ہیں، کس کے پاس ہیں اور کس ادارے نے انہیں گرفتار کیا ہے۔
10:00 بجے صبح ـ نیا دھرنا اقتصادی بندرگاہ پر سینکڑوں بحرینیوں نے منامہ کی اقتصادی بندرگاہ میں ایک نیا اقدام کرکے نئے دھرنے کا آغاز کردیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد نے بندرگاہ کا رخ کیا ہوا ہے اور وہ دھرنے میں شریک افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 16:30 بجے ـ ـ "زنجیر توڑ" ریلی شروع ہوگئیآج کی عظیم ریلی "زنجیر توڑ ریلی" کے عنوان سے شروع ہوئی اور مظاہرین وزارت داخلہ کی عمارت کی طرف روانہ ہوگئے۔ 17:00 بجے ـ ـ منامہ جیل کے سامنے اجتماعہزارون بحرینی انقلابی عوام منامہ کی "قلعہ جیل" کے سامنے اکٹھے ہوگئے ہیں۔ یادرہے کہ حکومت نے تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرنے کے باوجود ابھی تک 100 قیدی جیلوں میں رکھے ہوئے ہیں اور انہیں رہائی نہیں ملی ہے۔ 17:10 بجے ـ ـ سول نافرمانی شروع ہوجائے گی اگر ...بحرین کے مشہور سماجی کارکن «علی حسن الصددی» نے کہا: عوام اپنا احتجاج بدستور جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ احتجاج بالکل پر امن ہے لیکن اگر حکومت پھر بھی ہمارے مطالبات کو توجہ نہ دے تو ہم سول نافرمانی کا آغاز کریں گے۔ 18:00 بجے ـ ـ عوامی اتحاد بہت بڑی کامیابی ہےحرکةالحق کے سیکریٹری جنرل شیخ حسن المشیمع نے کہا: بحرین میں آئینی بادشاہت کا مفہوم ناقابل حصول ہے۔انھوں نے کہا: بحرینی حکومت کی اپوزیشن تحریکوں کے درمیان موقف کے حوالے سے اتحاد موجودہ تحریک کا پہلا بڑا ثمرہ ہے۔ 18:40 بجے ـ ـ اتوار کے روز؛ عام ہڑتال بحرین کے سیاسی رہنما شیخ حسین حداد نے کہا: بحرین کے تمام شہری اتوار کے روز عام ہڑتال کا آغاز کریں گے۔......./110